Showing posts with label سائنس اور ٹیکنالوجی. Show all posts
Showing posts with label سائنس اور ٹیکنالوجی. Show all posts

Wednesday, 4 November 2015

اپنے کمپیوٹر پر ان چاہے سافٹوئیر اور ٹول بار انسٹال ہونے سے کیسے روکیں

0 comments
بہت سے دوستوں کو یہ شکایت ہوگی کہ جب وہ اپنے کمپیوٹر پر کوئی نیا پروگرام انسٹال کرتے ہیں تو ساتھ ہی بہت سے ان چاہے سافٹوئیر اور ٹول بار وغیرہ انسٹال ہوجاتی ہیں۔ جو نہ صرف انکے کمپیوٹر کی سیٹنگز کو بگاڑ کررکھ دیتی ہیں بلکہ ویب براؤزر میں نظر آنے والی ٹول بار بھی باعث کوفت ہوتی ہے۔ جو انکے سرچ انجن اور ہوم پیج کو بھی تبدیل کردیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کمپیوٹر میموری بھی استعمال کرتی ہیں۔
اس سے بچنے کا صحیح طریقہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی پروگرام انسٹال کرتے وقت سکرین پر نظر آنے والی ہدایات کا بغور مطالعہ کیا جائے اور وہاں پر اضافی سافٹوئیر کے خانے کو “uncheck” کردیا جائے۔ مگر جناب ہمارے پاس اس کام کے لیے وقت کہاں؟ اور نتیجتاً عجیب وغریب قسم کی ٹول بارز اور اشتہاری پیغامات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
چلیں کوئی بات نہیں، اسکا بھی حل موجود ہے۔یہ لنکوزٹ کیجئے اور Unchecky نامی ایک چھوٹا سا سافٹوئیر ڈاؤنلوڈ کرلیں۔ ڈاؤنلوڈ کرنے کے بعد کسی بھی عام پروگرام کی طرح اسے اپنے کمپیوٹر پرانسٹال کرلیں، لیجئے جناب کام مکمل ہوا۔
یہ سافٹوئیر اب بیک گراؤنڈ میں چلتا رہ8 ball pool Free Coins And Cash ے گا اور جب بھی آپ کوئی نیا پروگرام انسٹال کرنے لگیں گے تو یہ اس کے انسٹالر کا جائزہ لے گا۔ اگر اس میں کوئی اضافی سافٹوئیر یا ٹول بار کی آپشن موجود ہوگی تو یہ خود ہی اسے uncheck کر دے گا ۔ بعض اوقات کچھ سافٹوئیر مختلف قسم کے انسٹالر کے ساتھ آتے ہیں، تب بھی Unchecky سروس آپ کو مطلع کردے گی کہ اب آپکے کمپیوٹر پر کوئی ٹول بار یا غیر متعلقہ سافٹوئیر انسٹال کیا جارہا ہے اور آپ ایک کلک کے ذریعے اسے روک سکتے ہیں۔
اس سافٹوئیر کی اچھائی یہ ہے کہ یہ زیادہ میموری بھی نہیں استعمال کرتا اور نیا ورژن آنے پر یہ خود ہی اپڈیٹ بھی ہوجایا کرئے گا۔ Unchecky کیسے کام کرتا ہے، اس بارے میں :
 ڈاؤنلوڈ کریں  :http://unchecky.com/files/unchecky_setup.exe

Tuesday, 3 November 2015

فیس بک کو تیز اور خوبصورت بناؤ

0 comments

فیس بک اس وقت دنیا کی دوسری بڑی مشہور ویب سائٹ ہے لیکن اس کے ڈیزائن میں متاثر کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر آپ فیس بک کو ایک دلکش اور خوبصورت انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں تو گوگل کروم میں ’’فیس بک فلیٹ‘‘ (Facebook Flat) ایڈاون انسٹال کرنا ہو گا۔ یہ فیس بک پر ایک بہت ہی خوبصورت تھیم لگا دیتا ہے جس کی بدولت فیس بک کی دلکشی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ فیس بک ویب سائٹ بہت جلدی کھلتی ہے اور اس کا مواد پڑھنے کے لیے بہتر انداز میں دکھایا جاتا ہے۔گیمز، اشتہارات و دیگر فالتو چیزیں ہٹا کر فیس بک نیوز فیڈ بھی انتہائی خوبصورت انداز میں دکھائی جاتی ہے۔

2030ء تک انسان اپنا دماغ کمپیوٹر پر اپ لوڈ کرسکے گا

0 comments

رے کرزویل ، جو گوگل میں انجینئرنگ ڈائریکٹر ہے ، کو یقین ہے کہ 2030ء تک انسانوں اور مشینوں کا ملاپ ہوجائے گا اور انسان اپنا دماغ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرسکیں گے۔ رے کرزویل نے یہ غیر معمولی دعویٰ نیویارک میں ہونے والی ایکسپونینشل فنانس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ دماغ نینو بوٹس (nanobots) اور ڈی این اے سے بنے ننھے روبوٹوں کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑ سکے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرورز کی مدد سے انسان اپنی ذہانت میں اضافہ کرسکے گا۔
رے کرویل نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”تب ہماری سوچ حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی سوچ کا مخلوط یا ہائبرڈ ہوگی ۔ ہم اپنے آپ کو بتدریج منظم اور بہتر بنا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ انسانی خصلت ہے کہ وہ اپنی حدود کو پھلانگنا چاہتا ہے۔ تب ہم اپنے سوچنے کی حدوں کو دماغ سے نکال کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک لے آئیں گے۔ ہم اپنے دماغوں میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا راستہ بنا رہے ہیں۔ “
رے کرزویل نے ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پیش گوئی کی تھیں جنہوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ رے کروزویل کے مطابق 2045ء تک مصنوعی ذہانت، انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ چند دہائیوں بعد انسان اپنے دماغ کا بیک اپ بھی بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔
بظاہر رے کروزویل کی باتیں کسی دیوانے کا خواب جیسی لگتی ہیں مگر یہ صاحب پہلے بھی مستقبل کے حوالے سے پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں جو خاصی حد تک درست ثابت ہوئیں۔ اس لئے ان کی حالیہ پیش گوئیوں کو سنجیدہ لیا جارہا ہے۔ ان صاحب نے 90ء کی دہائی میں 147 مختلف پیش گوئیاں کی تھیں جنہیں 2009ء تک پورا ہوجانا چاہئے تھا۔ 2010ء میں انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کا جائزہ لیا تو 86 فیصد پیش گوئیاں بالکل درست ثابت ہوئیں۔
2009ء کے حوالے سے رے کرزویل نے پیش گوئی کی تھی کہ 2009ء میں لوگ پورٹیبل ڈیوائسز کو پرائمری ڈیوائسز کے طور پر استعمال کریں گے جو کہ پوری ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیبل (ٹی وی) غائب ہوجائے گا۔ ایک پیش گوئی تھی کہ کمپیوٹر کا ڈسپلے آنکھوں کی عینک میں سما جائے گا۔ یہ پیش گوئی گوگل گلاس اور اس جیسی دوسری مصنوعات کی شکل میں پوری ہوچکی ہے۔ کرزویل صاحب کا خیال تھا کہ 2009ء ہی میں خود کار گاڑیاں تیار ہوجائیں گی۔ تاہم یہ پیش گوئی مکمل طور پر پوری نہ ہوئی ۔ ان صاحب کی 14 فیصد غلط پیش گوئیاں بھی مکمل طور پر غلط نہیں تھیں۔ ان کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔ یہی بات آج بل گیٹس اور مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ بھی کر رہے ہیں۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ کروزویل صاحب کوئی نجومی نہیں ہیں بلکہ ان کی پیش گوئیوں کی بنیاد خالصتاً سائنسی ہوتی ہے۔
رے کرزویل نے لکھا کہ” میں نے 20 سال پہلے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ آگ ہمیں گرم رکھتی ہے، ہمارا کھانا پکاتی ہے مگر یہی آگ ہمارے گھروں کو جلا کر بھی خاکستر کر دیتی ہے۔ہر ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں تو بہت سے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ “
حال ہی میں ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں اضافے سے معاشرتی فرق بڑھتا جا ئے گا۔ اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی ، یروشلم کے پروفیسریوال نوح ہراری کے مطابق اگلے 200 سال میں امیر لوگ تو اپنے جسم کے تمام اعضا تبدیل کر کے موت پر قابو پا لیں گے جبکہ غریب لوگ ان سہولیات کو ترسیں گے۔

پروفیسر ہراری نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی اور جنیٹک کی وجہ سے دو طبقے ہونگے، ایک وہ امیر لوگ جو دولت کے بل پر لافانی اور زندگی اور موت پر قابو پانے والے ہونگے جبکہ دوسرے ان سہولیات سے محروم عام انسان۔پروفیسر ہراری نے کہا کہ انسان میں خود کو بہتر بنانے کی خواہش بنیادی جبلت ہے۔ پروفیسر کے مطابق انسان جبلی طور پر غیر مطمئن مخلوق ہے

کمپیوٹر کا اصل بانی کون???

0 comments
کمپیوٹر کا اصل بانی کون ہے وہ جسے دنیا بلگیٹس کے نام سے جانتی ہے ؟یا وہ جسے شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں-بل گیٹس صرف وہ انسان ہے جس نے دنیا کو ماییکروسافٹ سے متعارف کروایا-ایک ایسا پرزہ جو اس مشین کو مزید آسان بنانے کے کام آسکتا تھا جسے ہم کمپیوٹر کے نام سے جانتے ہیں-جو مشکل سے مشکل سوال حل کرنے میں سیکنڈز لگاتا ہےاور سب سے اہم بات برقی پیغام رسانی کا آسان ترین ذریعہ ہے-

ایلن ٹیورنگ اس مشین کا اصل بانی ایک انگریز ساینسدان اور میتھمیٹیشن تھا-جو23 جون1912 کو برطانیہ میں پیدا ہوا- جنگ عظیم دوم کے دوران ایک مشین انیگما جسے نازی (جرمن )فوج کے پیغامات ارسال کرنے کیلۓ استمعال کیا جارہا تھا اور برطانیہ پر پے در پے حملے ہو رہے تھےاورلاکھوں کی تعداد میں لوگ مر رہے تھے تب حکومت برطانیہ نے کچھ مخصوص قسم کی آی کیو رکھنے والے لوگوں کوچنا جو اس پۤراسرا مشین کے اشاروں میں دیے گۓ پیغامات کو کیچ کر کےتوڑ سکے اور اسکا اصل مطلب پتہ چل سکےانہی لوگوں میں پرنسٹن یونیورسٹی کا ایک پروفیسر ایلن ٹیورنگ بھی شامل تھا-گو کے لوگ بہت شامل تھے اس معمے کو حل کرنے میں لیکن اس انسان نے دن رات کی پرواہ کۓ بغیر کام کیا اور اخر کار ایک ایسی مشین ایجاد کر لی جو انیگما کے پیغامات توڑ سکتی تھی یا عام طور پر الفاظ کی صورت کیچ کر سکتی تھی جسےوہاں بیٹھے ساینسدان جملوں میں تبدیل کر کے پیغام کا اصل مطلب اخذ کر کےمتعلقہ اداروں کو پہنچا دیا جاتا اور وہ بر وقت کاروایی کر کے حملہ ناکام بنا دیتی تھی-یہ کام بہت آہستہ آہستہ ہو رہا تھا لیکن پھر بھی مؤرخین کے مطابق اس مشین کی وجہ سے ہی برطانیہ نے وہ جنگ جیت لی اور تقریبا 14 لاکھ لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا-اس مشین کو ہی بعد میں مختلف کوڈز کو توڑنے اور میتھس کے بہت سے مسلے حل کرنے کے لیۓ ردو بدل کر کے استمعال کیا جانے لگا-اس لیے ایک طرح اگر ایلن ٹیورنگ کو ہی وہ انسان سمجھا جاۓ جس نے موجودہ کمپیوٹر کا نظریہ دیا تو غلط نہ ہوگا-برطانیہ میں ساینس اورمیتھس سے متعلق یونیورسٹیوں میں آج بھی ایلن ٹیورنگ کی ہی تحریر کردہ کتب اور ریسرچ پیپر استعمال کۓ جاتے ہیں-
0 comments