Showing posts with label مضامین کہانیاں. Show all posts
Showing posts with label مضامین کہانیاں. Show all posts

Tuesday, 3 November 2015

کاش میں آپ کی بات مان لیتا کاش

0 comments
استاد اپنے مخصوص انداز میں کلاس میں داخل ہوئے،ایک اچٹتی نگاہ سے کلاس میں موجود تمام طلباء کا جائزہ لینے کے بعد اپنی نشست پہ متمکن ہوئے،کلاس کے نگران طالب علم نے حاضری کا رجسٹر استاد کے ڈیکس پہ رکھ دیا،استاد نے غصے سے رجسٹر بند کردیا ،ان کے پرنورچہرے پہ غصہ کے آثار کسی آفت ناگہانی کا خبر دے رہے تهے،اتنے نرم مزاج استاد کا رویہ آج خلاف معمول تها,طلباء استفہامیہ نظروں سے ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے،ہر کوئی اپنے کسی سابقہ گناہ کو استاد کے غصے کا سبب قرار دے کر انجام کے لیے تیار بیٹها تها،اچانک موت نما خاموشی کے لیے استاد کی گرج دار آواز صور اسرافیل ثابت ہوگئی،استاد کی گرج سن کرہر کوئی اپنا اعمال نامہ ہاتھ میں تهامے خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے لیے تیار ہوگیا,میں نے اندازہ لگایا کہ استاد کی نظروں کے تیر براہ راست ہماری صف پہ برس رہے تھے،میرا دماغ شش و پنج کی180 ڈگری پہ تھا اچانک استاد کی گرج دار آواز نے سوچ و فکر کے فاصلے سمیٹنے پہ مجبور کردیا،مجھے اور میرے برابر میں طالب علم کو کلاس سے نکلنے کا پروانہ تھما دیا گیا تھا اور ساتھ میں یہ حکم بھی جاری ہوا تھا کہ کل کلاس میں آنےسے پہلے اپنے سروں کو بالوں کے بوجھ سے آذاد کروانا مت بھولیے،سوء اتفاق کہ ہم دونوں کا تعلق ایک ہی علاقے سے تھا،اصل میں اس استاد کے پیریڈ میں بغیر دستار سر پہ سجائے بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی اور ہم دونوں سے یہ گناہ سرزد ہوچکا تھا,کلاس سے باہر نکلتے وقت تک استاد کا خوف سر پہ سوار رہا، مگر دروازہ عبور کرتے ہی ہم سوچوں کی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے،ر گوں میں ابتداء جوانی کا خون جوش مارنے لگا،نفس اور شیطان کی سازشوں نے کئی سبز باغ دکھائے،دل میں رہ رہ کے گھر اور گھر والوں کی یاد نے کچوکے لگانے شروع کردیے،ابتدائی مشورے میں ہم نے نفس پرستی کا سہارا لیتے ہوئے استاد کے فرمان سے سرتابی کا فیصلہ کر لیا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ہم جامعہ کے کینٹین پہنچے،مستقبل کے حوالے سے پلان اے سے زیڈ تک کا ایک خاکہ تیار کرلیا،پلان اے میں مدرسہ چھوڑنے کے علاوہ نئے مدرسے کی تلاش کے علاوہ کچھ اور بھی چیزیں شامل تھیں، ناکامی کی صورت میں پھر بالترتیب پلان زیڈ تک کا اجمالی خاکہ تیار تھا..

پلان اے کی کامیابی کے لئے حکمت عملی عملی ترتیب دیتے ہوئے اچانک میری نظر کیںٹین کی اس کرسی پہ پڑی جہاں پہ بیٹھ کر میرے والد صاحب نے مجهے قیمتی نصیحتوں سے نوازا تها،اس کرسی پہ نظر پڑھتے ہی میرے تن بدن میں سرسراہٹ شروع ہوگئی،تین دن داخلے کے چکر میں میرے ساتھ خواری کاٹنے والے والد کی نصیحتیں میرے دماغ پہ ہتھوڑے کی طرح برسنے لگیں،اندر ہی اندر میں عرق ندامت میں ڈوبتا چلا گیا،مجھے یہ بھی یاد آیا کہ میرے والد صاحب رشتہ داروں کے درمیان میری مثالیں فخر سے بیان کیا کرتے تھے،میں ایک مصمم ارادے کے ساتھ اپنے دوست کی جانب مڑااور اسے دھرنا ختم اور استاد کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا فیصلہ سنایا اور اٹھ کے سیدھا مدرسے کے مین گیٹ سے ہوتے ہوئے فٹ پاتھ پہ موجود "نائی" کے آگے سر جھکاکے اس سے درخواست کی کہ سر پہ موجود بالوں پہ اس بے دردی سے استرا پهیر دے کہ دوبارہ اگنے کا نام ہی نہ لیں،سر کے بال گنوانے کے بعد اس دوست کے پاس واپس آیا تو مجھے دیکھ کر میرا مذاق اڑانے لگا،اوراس نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ میں کسی بھی قیمت پہ اپنے بال نہیں منڈواوں گا،میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر،ہفتہ بعد اگنے والے بالوں کو بچانے کی خاطر میرا دوست استاد کی ناراض گی مولتے ہوئےمدرسہ چھوڑ کے چلا گیا...

اگلے دن میں کلاس ،میں ایک مسخرے کی صورت میں دوستوں کے ذوق مزاح کی تسکین کے لیے دستاب،مگر میرا ضمیر مطمئن تھا،کیوں کہ میں نے ایک استاد کا حکم بجا لایا تھا،کسی کی طنز سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑا،متعلقہ استاد کا پیریڈ جب شروع ہوا تو میں ان کا ردعمل دیکھنے کے لیے بے تاب تھا، استاد نے مجھے بلایا،مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیااور دوسرے دوست کے بارے پوچھا تو میں نے بتادیا کہ وہ چلا گیا،،،یہ سن کر وہ بہت رنجیدہ ہوئے اور کہا کہ جا کر بلا کے لے آو اس کو بغیر سر منڈوائے بیٹھنے کی اجازت ہے،،،مگر وہ اپنے سامان سمیت بہت دور چلا گیا تھا...

اس دن کے بعد سب اس واقعے کو بھول گئے،مگر کچھ ذاتی مشاہدوں نے اس واقعے کو میرے دماغ میں تروتازہ رکھا،سیکنڈ منٹوں میں بدل گئے،منٹوں نے گھنٹوں کی شکل اختیار کی،گھنٹے دن بن گئےِ، دن ہفتوں میں ڈھل گئے ،ہفتوں سے مہینے اور مہینوں سے سال بن کے گزرتے گئے،اس واقعے کے ٹھیک 12سال بعد میں اپنےشہر کے ایک بازار میں گھومتے پھرتے ٹھکاوٹ سے چور ہوکر چائے پینے کے لیے ایک ہوٹل میں ہنچا،آرڈر دینے کے بعد میں اپنے موبائل میں کھوگیا،تھوڑی دیر بعد بوسیدہ سی آستینوں والا ایک ہاتھ چائے کی پیالی کے ساتھ میرے سامنے نمودار ہواتو میں نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھنے لگا،اس کی جانب دیکھتے ہی میرا ہاتھ جہاں پہ تھا وہی رک گیا،میرے ہوش و حواس مختل ہوگئے،میں حیرت کا بت بنے اس کی طرف دیکھتا رہااور میں 12 سال پیشتر مدرسے کی کینٹین میں پہنچا جہاں پر ہم اپنے پلان پہ کام کررہے تھے، میں تو پلان اے میں ہی سنبھل گیا تھا مگر میرادوست شاید پلان زیڈ کی ناکامی کی وجہ سے میلے کچیلے کپڑوں میں میرے سامنے داسستان عبرت بن کے کھڑا تھا،چند ثانیےتک ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے،اچانک اس نے میرا نام لیا اور حسرت کے آنسو بہاتے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا،اور اس کی زبان پہ بس ایک جملہ تھا،
کاش میں آپ کی بات مان لیتا......کاش......کاش.....کاش............

کچھ تو سکوں ملا میرے دل کو

0 comments

جو بوؤ گے...وہی کاٹو گے۔ جیسا کرو گے... ویسا بھروگے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ذرا سی دیر ہو جائے تو ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔ ارے خالقِ کائنات ہے کوئی دنیاوی جج نہیں کہ حالات کے مطابق فیصلے سنائے۔
آج میں بہت خوش ہوں اور جس فیصلے کا انتظار۲۵سال سے تھا، آہی گیا. (یہ واقعہ فروری ۱۹۹۰ کا ہے)۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر عاصم (چئیرمین پبلک سروس کمیشن، مالک ضیاء الدین اسپتال و نواسہ سر ضیاء الدین ) گرفتار ہو گیا۔اُس نے جان بوجھ کر میرے بہنوئی حفظ الرحمٰن خان کوایکسپائرڈ انجیکشن نہیں لگایا تھا بلکہ اس کے ایڈمن آفیسر محمّد اقبال نے میری ڈیمانڈ پر ثبوت مجھے مہیّا کر دیا کیونکہ اس کا اپنا نو زائیدہ بیٹا بھی عاصم کی لا پرواہی کی وجہ سے یرقان سے انتقال کر گیا تھا ویسے بھی خدا ترس افر مشہور تھا۔ میرے بہنوئی اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹے کی نوکری کی تلاش کے بعد گھر واپس آ رہے تھے کہ کریم آباد پر موٹر سائیکل پھسل کر گر ی تو ماتھے پر معمولی سی خراش آئی، بیٹا اینٹی ٹیٹنس انجیکشن لگوانے نارتھ ناظم آباد کے ضیاءالدین اسپتال لے گیا۔ میں خبر سن کر پہنچا تو بذاتِ خود عاصم سے تفصیل چاہی، پہلے تو بات کرنے سے انکار کردیا لیکن میرے اصرار پرآئی سی یو میں جانے کی اجازت یہ کہہ کر دی کہ ان کے سر میں شدید چوٹیں آئی تھیں اور اسپتال پہنچنے سے پہلے انتقال ہو چکا تھا، میں نے کہا موٹر سائیکل پر انتقال ہؤا اور یہ گرے نہیں تو کہا کہ بس یہاں ایمرجنسی میں پہنچتے ہی انتقال ہؤا، میں کیا کر سکتا تھا۔ میرے بھانجے کو بولنے سے منع اس لئے کردیا کہ اس کی صدمے سے حالت ٹھیک نہیں جبکہ وہ تگڑا جوان مجھے سنبھلنے میں مدد اور جھگڑے سے منع کر رہا تھا۔ آئی سی یو میں جاتے ہوئے لفٹ میں ایڈمن آفیسر نے کہا "آپ دیکھ نہیں پائیں گے، ان کی سر کی حالت بہت خراب ہے" پہنچ کر لاش دیکھنے کی اجازت نہ ملنے پر میرے ہنگامہ کرنے پرکفن ہٹایا تو ان کا سر جگہ جگہ سے پھولا ہؤا تھا، بھانجہ بھی دیکھ کر حیرانی سے بولا "ماموں سر پہ تو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔ میں نے آئی سی یو کے انچارج کو اپنی چھوٹی بہن کے جیٹھ آغا سید سعادت علی آئی جی سندھ کا حوالہ دیا تو ایک طرف لے جا کر سرگوشی میں بتایا کہ ہمیں حکم تھا ان کے سر پر ضربیں لگا دو، ہم نے لگوا دیں۔ میں بھاگ کر عاصم کے پاس نیچے پہنچا تو اپنے کمرے میں موجود نہ تھا بتایا گیا کہ ایمرجنسی میں کہیں باہر چلے گئے اور کہہ گئے ہیں "اُن سے کہنا پہلے حادثہ کی ایف آئی آر کٹوائیں پھر لاش ملے گی"۔

بہر حال میں نے لاش تو حاصل کر لی لیکن ۳ ماہ چکّر لگانے اور ایڈمن آفیسر سے باہر ملاقاتوں کے بعد حقیقت پہ مبنی سرٹیفیفکیٹ بھی حاصل کر لیا۔ اُن کی لائف انشورنس ای ایف یو (عطا تبسّم صاحب کی کمپنی) سے دلوانے میں بھی ایڈمن آفیسر محمد اقبال نے بے حد مدد کی۔ان تین ماہ کے دوران عاصم کے گارڈز نے مجھے اس کے دفتر میں داخل نہ ہونے دیا۔ ۲۰۱۳ سے پچھلے ہفتہ تک میں تین بار ایمرجنسی میں کلفٹن کے ضیا الدین اسپتال میں بے ہوشی کے عالم میں جاکر داخل رہ چکا ہوں، بہترین علاج اور عمدہ سہولیات میسّر ہیں کیونکہ عاصم اب ڈاکٹر نہیں بلکہ وزیر اور چئیر مین ہائر ایجوکمیشن ہے۔جئے زرداری، جئے نواز۔ کیونکہ عظیم لیڈر بھٹّو کو دنیاوی ججوں نے سُولی پر لٹکا دیا اور لُٹیروں کی عیش ہو گئی۔ ٹائپ کرنے کے دوران غیر معمولی کیفیت تبدیل کرنے کیلئے آخری جملہ لکھنا ضروری تھا کیونکہ ابھی مجھے اپنے بچّوں کیلئے زندہ رہنا ہے، باقی اُس کی مرضی۔

اسلامی سچی کہانی

0 comments

حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگو ں کے درمیان جلوہ فرماتھے کہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا : ''جتنی مشابہت ان دونوں میں پائی جارہی ہے میں نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں نہیں دیکھی۔''یہ سن کر اس شخص نے عرض کی : ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' پوراواقعہ بیان کرو۔'' وہ شخص عرض کرنے لگا:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی،میں نے جاتے وقت دعا کی :''اے اللہ عزوجل! میری زوجہ کے پیٹ میں جو حمل ہے میں اُسے تیرے حوالے کرتاہوں، تُوہی اس کی حفاظت فرمانا۔ ''
یہ دعا کر کے میں جہاد کے لئے روانہ ہوگیا جب میں واپس آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے ،مجھے بہت افسوس ہوا ۔ایک رات میں نے اپنے چچا زاد بھائی سے کہا :''مجھے میری بیوی کی قبر پر لے چلو۔'' چنا نچہ ہم جنت البقیع میں پہنچے اور اس نے میری بیوی کی قبر کی نشاندہی کی۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ قبر سے روشنی کی کرنیں باہر آرہی ہیں۔میں نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا :'' یہ رو شنی کیسی ہے؟'' اس نے جواب دیا: ''اس قبر سے ہر رات اسی طر ح روشنی ظاہر ہوتی ہے ،نہ جانے اس میں کیا راز ہے؟'' جب میں نے یہ سنا تو ارادہ کیا کہ میں ضرور اس قبر کو کھود کر دیکھو ں گا ۔'' چنانچہ میں نے پھاؤڑا منگوایا ابھی قبر کھود نے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر خود بخود کھل گئی۔ جب میں نے اس میں جھانکا تو اللہ عزوجل کی قدرت کا کرشمہ نظر آیا کہ یہ میرا بچہ اپنی ماں کی گو د میں بیٹھا کھیل رہا تھا جب میں قبر میں اُتر ا تو کسی ندادینے والے نے ندادی :'' تُو نے جو امانت اللہ عزوجل کے پا س رکھی تھی وہ تجھے واپس کی جاتی ہے ، جا! اپنے بچے کو لے جا، اگر تُواس کی ماں کو بھی اللہ عزوجل کے سپرد کر جاتا تو اسے بھی صحیح وسلامت پاتا ۔''پس میں نے اپنے بچے کو اٹھا یا اور قبر سے باہر نکالا جیسے ہی میں قبر سے باہر نکلا قبر پہلے کی طر ح دوبارہ بند ہوگئی۔ (صحابی ئ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا بیٹا اللہ عزوجل کے سپرد کیا تو اللہ عزوجل نے اسے قبر میں بھی زندہ رکھا۔ اے اللہ عزوجل !ہم بھی اپنا ایمان تیرے سپر د کرتے ہیں تو ہمارے ایمان کی حفاظت فرمانا اور ہمارا خاتمہ با لخیر فرمانا)
مسلماں ہے عطار ؔ تیری عطا سے 
ہو ایمان پر خاتمہ یا الٰہی عزوجل
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
عُیُوْنُ الْحِکَایَات (مترجم) (حصہ اوّل) مؤلف امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی المتوفیٰ ۵۹۷ ھـ

سمندر کی لہروں پر چلنے والا نوجوان

0 comments
حضرت سیدنا یوسف بن الحسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا ذوالنون مصریعلیہ رحمۃاللہ القوی کی صحبت میں رہتے ہوئے مجھے کافی عرصہ گزر گیا اور میں ان سے بہت زیادہ مانوس ہوگیا۔
توایک مرتبہ میں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا :'' حضور! آپ کو سب سے پہلے کون ساعجیب وغریب واقعہ پیش آیا ؟'' یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ''میں ایامِ جوانی میں خوب لہوولعب کی محفلوں میں مگن رہتا اور دنیا کی رنگینیوں نے میری آنکھوں پر غفلت کاپردہ ڈال رکھاتھاپھر اللہ عزوجل نے مجھے تو بہ کی تو فیق عطا فرمائی اور میں تمام معاملات چھوڑ کر حج کے ارادے سے ساحلِ سمند رپر آیا، وہاں میں نے ایک بحری جہاز پایا جس میں مصری تا جر سوار تھے، میں بھی ان کے ساتھ جاملا۔

اس جہازمیں ہمارے سا تھ ایک نہایت حسین وجمیل نوجوان بھی تھا جس کی پیشانی سے سجدوں کا نور جھلک رہا تھا اور اس کے منور چہرے نے گویا ساری فضا کو نوربار کیاہوا تھا۔جب ہمارا جہاز کافی فاصلہ طے کر چکا اور وسطِ سمندر میں آگیا تو جہاز کے مالک کی رقم سے بھری تھیلی گم ہوگئی ۔اس نے پُوچھ گچھ کی لیکن تھیلی نہ ملی، لہٰذا اس نے سب سواروں کو جمع کیا اور سب کی تلاشی لینا شرو ع کردی لیکن تھیلی کسی کے پاس بھی نہ ملی بالآخر جب تلاشی لینے والا اس نوجوان کے پاس آیا تواس نوجوان نے اچانک جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگادی ۔یہ دیکھ کر میں حیرت میں ڈوب گیا کہ سمندرکی موجوں نے اسے نہ ڈبویابلکہ وہ اس کے لئے تخت کی طر ح ہو گئیں اور وہ نوجوان لہروں پر اس طرح بیٹھ گیا جس طر ح کوئی تخت پر بیٹھتا ہے، ہم سب مسافر بڑی حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔ پھر اس نوجوان نے کہا:
''اے میرے پاک پروردگار عزوجل !ان لوگو ں نے مجھ پر چوری کی تہمت لگائی ہے ۔ اے میرے دل کے محبوبعزو جل! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تُو سمندر کے تمام جانوروں کو حکم فرماکہ وہ اپنے اپنے مونہوں میں ہیرے جواہرات لے کر ظاہر ہوجائیں ۔''

حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ابھی اس عظیم نوجوان کا کلام مکمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ جہاز کے چاروں جانب سمندری جانور ظاہر ہوگئے، سب کے مونہوں میں اتنے زیادہ ہیرے جواہرات تھے کہ ان کی چمک سے سارا سمندر رو شن ہوگیااور ہماری آنکھیں چندھیانے لگیں پھر اس نوجوان نے پانی کی موجوں سے چھلانگ لگائی اور لہروں پر چلتا ہوا ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا، وہ عظیم نوجوان یہ آیت تلاوت کرتاجارہا تھا :اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ
ترجمہ کنزالایمان:ہم تجھی کوپوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ۔(پ1،الفاتحۃ:4)

حضرت سیدنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں : یہی وہ پہلا واقعہ ہے جس کی وجہ سے مجھے سیرو سیاحت کا شوق ہواکیونکہ سیر وسیاحت میں اکثر اولیاء کرام رحمہم اللہ المبین سے ملاقات ہوتی ہے اور حضور نبی کریم ،رء ُ وف رحیم ﷺ کا فرمانِ عظیم ہے : ''میر ی اُمت میں ہمیشہ 30مرد ایسے رہیں گے جن کے دل حضرت ابراہیم خلیل اللہ(علیہ السلام) کے دل پر ہوں گے جب ان میں سے کوئی ایک مرجائے گا تو اللہ عزوجل اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔''(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبادۃ بن الصامت، الحدیث:۲۲۸۱۵،ج۸،ص۴۱۰۔۴۱۱)(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم) عُیُوْنُ الْحِکَایَات (مترجم) (حصہ اوّل) مؤلف امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی المتوفیٰ ۵۹۷ ھـ

گل، تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو، مگر

0 comments
زندگی میں اگر کوئی محبت کو ، اور خدا کے سائے کو ڈھونڈنا چاہتا ہے یا اپنے والدین کے پیار کو تووہ اپنے اُستاد کی عزت کریں۔ کچھ باتیں اتنئ حساس اور ناُزک ہوتی ہے جس کا ہمیں پتہ تو ہوتا ہے لیکن اندازہ نہیں۔ اسی طرح کچھ دن پہلے مجھے اندازہ ہوا کہ ایک شاگرد اپنے دل میں اُستاد کیلئے کتنی محبت، عزت و احترام رکھتا ہے۔میرے بہت ہئ قابل احترام اُستاد، اُس میں بہت سی خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ ہے کہ اللہ نے اُس کے لب و لہجے کو خوض کوثر جیسے مٹھاس سے فیضیاب کیا ہے۔میرا اپنے محترم اُستاد سے ہمیشہ رہنے والی تعلق کا سلسلہ آج سے ساڑھے چار سال پہلے کُرسی سے شروع ہوا مجھے اپنے اساتذہ بہت ہئ عزیز اور قریب ہے لیکن مجھے جو عقیدت و احترام اس اُستاد سے ہے اُس کی شدت کا اندازہ مجھے کچھ دن پہلے ہوا جب ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ کچھ عرصہ سے ایک قابل علاج بیماری اپنے پورے توانائی سے اور ہمت و حوصلے سے لڑرہے ہیں، تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور مالک قُل سے دل میں اپس بچے کی مانند جو دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوتا ہے اور اہنی ماں کو روتا ہے اپنی ضد منوا رہا ہوتا ہے ، کھڑے کھڑے فریاد شروع کی کیونکہ میرا اللہ یہ نہیں کہتا کہ تم دُعا مانگنے کے لئے وضو کروگے اور مسجد کے کسی کھونے میں مجھ سے کلام کروگے نہیں وہ تو بے نیاز ذات ہے بس دلوں کو ، نیتوں کو دیکھ کر اپنے بندے کو نوازتا ہے پھر یہ نہیں دیکھتا کی اس نے تو ساری زندگی میرئ نافرمانیاں کی ہے ، اور کہا کہ اے اللہ جب اُستادوں کا ہم پھر سر فخر سے اور سینہ تھان کر چلنے کا وقت آیا تو تو نے ہم کو بےبس کردیا۔۔۔۔۔ یا اللہ نیری زندگی میرے اُستاد کو دیں لیکن اُس کو صحت عطا کریں مجھے تمہارے خدائی کی قسم کہ میرے اُستاد کی ایک مسُکراہٹ کی قیمت دنیا میں کوئی ادا نہیںکرسکتا تمہارے پاس تو ہر چیز کی خزانے ہیں نا بس صرف کُن کہہ دے میرے مولا میرے آنسوؤں کے طفیل اُس کی مُسکراہٹ کو واپس کردیں۔

گھر آکر جیسے میرئ زندگی ہئ اُجڑ گئی بس اُس کے ساتھ گُزرے پل ، اُس کا بولنا، اُس کا رعب دار انداز میں چلنا کبھی چشموں کو آنکھوں سے اُتار کر اُس کا صاف کرنا تخیل میں ایک تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا۔

سر میں نے آپ سے کرنے کو بہت سی باتیں دل میں جمع کر رکھی ہے بس ہمت ہی نہیں ہورہی کہ کیسے اور کب کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
0 comments