Tuesday, 3 November 2015

2030ء تک انسان اپنا دماغ کمپیوٹر پر اپ لوڈ کرسکے گا

0 comments

رے کرزویل ، جو گوگل میں انجینئرنگ ڈائریکٹر ہے ، کو یقین ہے کہ 2030ء تک انسانوں اور مشینوں کا ملاپ ہوجائے گا اور انسان اپنا دماغ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرسکیں گے۔ رے کرزویل نے یہ غیر معمولی دعویٰ نیویارک میں ہونے والی ایکسپونینشل فنانس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ دماغ نینو بوٹس (nanobots) اور ڈی این اے سے بنے ننھے روبوٹوں کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑ سکے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سرورز کی مدد سے انسان اپنی ذہانت میں اضافہ کرسکے گا۔
رے کرویل نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”تب ہماری سوچ حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی سوچ کا مخلوط یا ہائبرڈ ہوگی ۔ ہم اپنے آپ کو بتدریج منظم اور بہتر بنا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ انسانی خصلت ہے کہ وہ اپنی حدود کو پھلانگنا چاہتا ہے۔ تب ہم اپنے سوچنے کی حدوں کو دماغ سے نکال کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک لے آئیں گے۔ ہم اپنے دماغوں میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا راستہ بنا رہے ہیں۔ “
رے کرزویل نے ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پیش گوئی کی تھیں جنہوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ رے کروزویل کے مطابق 2045ء تک مصنوعی ذہانت، انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ چند دہائیوں بعد انسان اپنے دماغ کا بیک اپ بھی بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔
بظاہر رے کروزویل کی باتیں کسی دیوانے کا خواب جیسی لگتی ہیں مگر یہ صاحب پہلے بھی مستقبل کے حوالے سے پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں جو خاصی حد تک درست ثابت ہوئیں۔ اس لئے ان کی حالیہ پیش گوئیوں کو سنجیدہ لیا جارہا ہے۔ ان صاحب نے 90ء کی دہائی میں 147 مختلف پیش گوئیاں کی تھیں جنہیں 2009ء تک پورا ہوجانا چاہئے تھا۔ 2010ء میں انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کا جائزہ لیا تو 86 فیصد پیش گوئیاں بالکل درست ثابت ہوئیں۔
2009ء کے حوالے سے رے کرزویل نے پیش گوئی کی تھی کہ 2009ء میں لوگ پورٹیبل ڈیوائسز کو پرائمری ڈیوائسز کے طور پر استعمال کریں گے جو کہ پوری ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیبل (ٹی وی) غائب ہوجائے گا۔ ایک پیش گوئی تھی کہ کمپیوٹر کا ڈسپلے آنکھوں کی عینک میں سما جائے گا۔ یہ پیش گوئی گوگل گلاس اور اس جیسی دوسری مصنوعات کی شکل میں پوری ہوچکی ہے۔ کرزویل صاحب کا خیال تھا کہ 2009ء ہی میں خود کار گاڑیاں تیار ہوجائیں گی۔ تاہم یہ پیش گوئی مکمل طور پر پوری نہ ہوئی ۔ ان صاحب کی 14 فیصد غلط پیش گوئیاں بھی مکمل طور پر غلط نہیں تھیں۔ ان کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔ یہی بات آج بل گیٹس اور مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ بھی کر رہے ہیں۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ کروزویل صاحب کوئی نجومی نہیں ہیں بلکہ ان کی پیش گوئیوں کی بنیاد خالصتاً سائنسی ہوتی ہے۔
رے کرزویل نے لکھا کہ” میں نے 20 سال پہلے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ آگ ہمیں گرم رکھتی ہے، ہمارا کھانا پکاتی ہے مگر یہی آگ ہمارے گھروں کو جلا کر بھی خاکستر کر دیتی ہے۔ہر ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں تو بہت سے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ “
حال ہی میں ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں اضافے سے معاشرتی فرق بڑھتا جا ئے گا۔ اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی ، یروشلم کے پروفیسریوال نوح ہراری کے مطابق اگلے 200 سال میں امیر لوگ تو اپنے جسم کے تمام اعضا تبدیل کر کے موت پر قابو پا لیں گے جبکہ غریب لوگ ان سہولیات کو ترسیں گے۔

پروفیسر ہراری نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی اور جنیٹک کی وجہ سے دو طبقے ہونگے، ایک وہ امیر لوگ جو دولت کے بل پر لافانی اور زندگی اور موت پر قابو پانے والے ہونگے جبکہ دوسرے ان سہولیات سے محروم عام انسان۔پروفیسر ہراری نے کہا کہ انسان میں خود کو بہتر بنانے کی خواہش بنیادی جبلت ہے۔ پروفیسر کے مطابق انسان جبلی طور پر غیر مطمئن مخلوق ہے

کمپیوٹر کا اصل بانی کون???

0 comments
کمپیوٹر کا اصل بانی کون ہے وہ جسے دنیا بلگیٹس کے نام سے جانتی ہے ؟یا وہ جسے شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں-بل گیٹس صرف وہ انسان ہے جس نے دنیا کو ماییکروسافٹ سے متعارف کروایا-ایک ایسا پرزہ جو اس مشین کو مزید آسان بنانے کے کام آسکتا تھا جسے ہم کمپیوٹر کے نام سے جانتے ہیں-جو مشکل سے مشکل سوال حل کرنے میں سیکنڈز لگاتا ہےاور سب سے اہم بات برقی پیغام رسانی کا آسان ترین ذریعہ ہے-

ایلن ٹیورنگ اس مشین کا اصل بانی ایک انگریز ساینسدان اور میتھمیٹیشن تھا-جو23 جون1912 کو برطانیہ میں پیدا ہوا- جنگ عظیم دوم کے دوران ایک مشین انیگما جسے نازی (جرمن )فوج کے پیغامات ارسال کرنے کیلۓ استمعال کیا جارہا تھا اور برطانیہ پر پے در پے حملے ہو رہے تھےاورلاکھوں کی تعداد میں لوگ مر رہے تھے تب حکومت برطانیہ نے کچھ مخصوص قسم کی آی کیو رکھنے والے لوگوں کوچنا جو اس پۤراسرا مشین کے اشاروں میں دیے گۓ پیغامات کو کیچ کر کےتوڑ سکے اور اسکا اصل مطلب پتہ چل سکےانہی لوگوں میں پرنسٹن یونیورسٹی کا ایک پروفیسر ایلن ٹیورنگ بھی شامل تھا-گو کے لوگ بہت شامل تھے اس معمے کو حل کرنے میں لیکن اس انسان نے دن رات کی پرواہ کۓ بغیر کام کیا اور اخر کار ایک ایسی مشین ایجاد کر لی جو انیگما کے پیغامات توڑ سکتی تھی یا عام طور پر الفاظ کی صورت کیچ کر سکتی تھی جسےوہاں بیٹھے ساینسدان جملوں میں تبدیل کر کے پیغام کا اصل مطلب اخذ کر کےمتعلقہ اداروں کو پہنچا دیا جاتا اور وہ بر وقت کاروایی کر کے حملہ ناکام بنا دیتی تھی-یہ کام بہت آہستہ آہستہ ہو رہا تھا لیکن پھر بھی مؤرخین کے مطابق اس مشین کی وجہ سے ہی برطانیہ نے وہ جنگ جیت لی اور تقریبا 14 لاکھ لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا-اس مشین کو ہی بعد میں مختلف کوڈز کو توڑنے اور میتھس کے بہت سے مسلے حل کرنے کے لیۓ ردو بدل کر کے استمعال کیا جانے لگا-اس لیے ایک طرح اگر ایلن ٹیورنگ کو ہی وہ انسان سمجھا جاۓ جس نے موجودہ کمپیوٹر کا نظریہ دیا تو غلط نہ ہوگا-برطانیہ میں ساینس اورمیتھس سے متعلق یونیورسٹیوں میں آج بھی ایلن ٹیورنگ کی ہی تحریر کردہ کتب اور ریسرچ پیپر استعمال کۓ جاتے ہیں-

کاش میں آپ کی بات مان لیتا کاش

0 comments
استاد اپنے مخصوص انداز میں کلاس میں داخل ہوئے،ایک اچٹتی نگاہ سے کلاس میں موجود تمام طلباء کا جائزہ لینے کے بعد اپنی نشست پہ متمکن ہوئے،کلاس کے نگران طالب علم نے حاضری کا رجسٹر استاد کے ڈیکس پہ رکھ دیا،استاد نے غصے سے رجسٹر بند کردیا ،ان کے پرنورچہرے پہ غصہ کے آثار کسی آفت ناگہانی کا خبر دے رہے تهے،اتنے نرم مزاج استاد کا رویہ آج خلاف معمول تها,طلباء استفہامیہ نظروں سے ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے،ہر کوئی اپنے کسی سابقہ گناہ کو استاد کے غصے کا سبب قرار دے کر انجام کے لیے تیار بیٹها تها،اچانک موت نما خاموشی کے لیے استاد کی گرج دار آواز صور اسرافیل ثابت ہوگئی،استاد کی گرج سن کرہر کوئی اپنا اعمال نامہ ہاتھ میں تهامے خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے لیے تیار ہوگیا,میں نے اندازہ لگایا کہ استاد کی نظروں کے تیر براہ راست ہماری صف پہ برس رہے تھے،میرا دماغ شش و پنج کی180 ڈگری پہ تھا اچانک استاد کی گرج دار آواز نے سوچ و فکر کے فاصلے سمیٹنے پہ مجبور کردیا،مجھے اور میرے برابر میں طالب علم کو کلاس سے نکلنے کا پروانہ تھما دیا گیا تھا اور ساتھ میں یہ حکم بھی جاری ہوا تھا کہ کل کلاس میں آنےسے پہلے اپنے سروں کو بالوں کے بوجھ سے آذاد کروانا مت بھولیے،سوء اتفاق کہ ہم دونوں کا تعلق ایک ہی علاقے سے تھا،اصل میں اس استاد کے پیریڈ میں بغیر دستار سر پہ سجائے بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی اور ہم دونوں سے یہ گناہ سرزد ہوچکا تھا,کلاس سے باہر نکلتے وقت تک استاد کا خوف سر پہ سوار رہا، مگر دروازہ عبور کرتے ہی ہم سوچوں کی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئے،ر گوں میں ابتداء جوانی کا خون جوش مارنے لگا،نفس اور شیطان کی سازشوں نے کئی سبز باغ دکھائے،دل میں رہ رہ کے گھر اور گھر والوں کی یاد نے کچوکے لگانے شروع کردیے،ابتدائی مشورے میں ہم نے نفس پرستی کا سہارا لیتے ہوئے استاد کے فرمان سے سرتابی کا فیصلہ کر لیا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ہم جامعہ کے کینٹین پہنچے،مستقبل کے حوالے سے پلان اے سے زیڈ تک کا ایک خاکہ تیار کرلیا،پلان اے میں مدرسہ چھوڑنے کے علاوہ نئے مدرسے کی تلاش کے علاوہ کچھ اور بھی چیزیں شامل تھیں، ناکامی کی صورت میں پھر بالترتیب پلان زیڈ تک کا اجمالی خاکہ تیار تھا..

پلان اے کی کامیابی کے لئے حکمت عملی عملی ترتیب دیتے ہوئے اچانک میری نظر کیںٹین کی اس کرسی پہ پڑی جہاں پہ بیٹھ کر میرے والد صاحب نے مجهے قیمتی نصیحتوں سے نوازا تها،اس کرسی پہ نظر پڑھتے ہی میرے تن بدن میں سرسراہٹ شروع ہوگئی،تین دن داخلے کے چکر میں میرے ساتھ خواری کاٹنے والے والد کی نصیحتیں میرے دماغ پہ ہتھوڑے کی طرح برسنے لگیں،اندر ہی اندر میں عرق ندامت میں ڈوبتا چلا گیا،مجھے یہ بھی یاد آیا کہ میرے والد صاحب رشتہ داروں کے درمیان میری مثالیں فخر سے بیان کیا کرتے تھے،میں ایک مصمم ارادے کے ساتھ اپنے دوست کی جانب مڑااور اسے دھرنا ختم اور استاد کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا فیصلہ سنایا اور اٹھ کے سیدھا مدرسے کے مین گیٹ سے ہوتے ہوئے فٹ پاتھ پہ موجود "نائی" کے آگے سر جھکاکے اس سے درخواست کی کہ سر پہ موجود بالوں پہ اس بے دردی سے استرا پهیر دے کہ دوبارہ اگنے کا نام ہی نہ لیں،سر کے بال گنوانے کے بعد اس دوست کے پاس واپس آیا تو مجھے دیکھ کر میرا مذاق اڑانے لگا،اوراس نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ میں کسی بھی قیمت پہ اپنے بال نہیں منڈواوں گا،میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر،ہفتہ بعد اگنے والے بالوں کو بچانے کی خاطر میرا دوست استاد کی ناراض گی مولتے ہوئےمدرسہ چھوڑ کے چلا گیا...

اگلے دن میں کلاس ،میں ایک مسخرے کی صورت میں دوستوں کے ذوق مزاح کی تسکین کے لیے دستاب،مگر میرا ضمیر مطمئن تھا،کیوں کہ میں نے ایک استاد کا حکم بجا لایا تھا،کسی کی طنز سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑا،متعلقہ استاد کا پیریڈ جب شروع ہوا تو میں ان کا ردعمل دیکھنے کے لیے بے تاب تھا، استاد نے مجھے بلایا،مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیااور دوسرے دوست کے بارے پوچھا تو میں نے بتادیا کہ وہ چلا گیا،،،یہ سن کر وہ بہت رنجیدہ ہوئے اور کہا کہ جا کر بلا کے لے آو اس کو بغیر سر منڈوائے بیٹھنے کی اجازت ہے،،،مگر وہ اپنے سامان سمیت بہت دور چلا گیا تھا...

اس دن کے بعد سب اس واقعے کو بھول گئے،مگر کچھ ذاتی مشاہدوں نے اس واقعے کو میرے دماغ میں تروتازہ رکھا،سیکنڈ منٹوں میں بدل گئے،منٹوں نے گھنٹوں کی شکل اختیار کی،گھنٹے دن بن گئےِ، دن ہفتوں میں ڈھل گئے ،ہفتوں سے مہینے اور مہینوں سے سال بن کے گزرتے گئے،اس واقعے کے ٹھیک 12سال بعد میں اپنےشہر کے ایک بازار میں گھومتے پھرتے ٹھکاوٹ سے چور ہوکر چائے پینے کے لیے ایک ہوٹل میں ہنچا،آرڈر دینے کے بعد میں اپنے موبائل میں کھوگیا،تھوڑی دیر بعد بوسیدہ سی آستینوں والا ایک ہاتھ چائے کی پیالی کے ساتھ میرے سامنے نمودار ہواتو میں نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھنے لگا،اس کی جانب دیکھتے ہی میرا ہاتھ جہاں پہ تھا وہی رک گیا،میرے ہوش و حواس مختل ہوگئے،میں حیرت کا بت بنے اس کی طرف دیکھتا رہااور میں 12 سال پیشتر مدرسے کی کینٹین میں پہنچا جہاں پر ہم اپنے پلان پہ کام کررہے تھے، میں تو پلان اے میں ہی سنبھل گیا تھا مگر میرادوست شاید پلان زیڈ کی ناکامی کی وجہ سے میلے کچیلے کپڑوں میں میرے سامنے داسستان عبرت بن کے کھڑا تھا،چند ثانیےتک ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے،اچانک اس نے میرا نام لیا اور حسرت کے آنسو بہاتے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا،اور اس کی زبان پہ بس ایک جملہ تھا،
کاش میں آپ کی بات مان لیتا......کاش......کاش.....کاش............